To the Hospital

•May 30, 2011 • 1 Comment

Good bye to the Walls who saw my Crying, screeching in the pains and remembering my loved one.
Good bye to windows through them, Sun,Moon,Stars and Clouds sneaked in and always found me awaken.
Good bye to the people may you get well soon who I friend with.
Good bye I am going for better health to gain.
Good bye Hospital May I Never See You Again. InshaAllah
“To the Hospital where I was admitted.”

بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی

•April 23, 2011 • Leave a Comment
ایک بہت ہی خوبصورت نظم ، معین اختر کی آواز میں

بندر روڈ سے کیماڑی
میری چلی رے گھوڑا گاڑی
بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر

بسوں کی آج ہوئی ہڑتال
سواری کی پھر کیا ہے کال
خدا دیتا ہے روٹی دال
زرا چل گھوڑے سر پٹ چال
ہوئی میری گاڑی اوورلوڈ
جیو میری کالی بندر روڈ
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہ آیا ریڈیو پاکستان
ہے گویا خبروں کی دوکان
تو اس کے گنبد کو پہچان
کہیں مسجد کا ہو نہ گمان
کہ ہوتا ہے درس قرآن
کہیں گمشدگی کا اعلان
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہاں ہوتے ہیں بندوں خاں
یہاں درباری اور کلیان
یہیں پہ کوئی تمنچہ جاں
سنائے گیت غزل کی تال
مگر ہم بوڑھوں کے یہ کان
کریں سر کی کیا پہچان
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

گویا، شاعر، موسیقار
ہے سب کا نام یہاں فنکار
ملازم سب ناپائیدار
مگر برسوں کے وظیفہ خوار
یہ ہے فن کا جونا بازار
کہ سب کا ہوتا ہے بیوپار
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

ہے میرا سی ڈی اختر بھی
قلی بھی مست قلندر بھی
یہاں ہے میوزک ایڈیٹر بھی
شکیل احمد بھی انور بھی
یہیں کا آرٹسٹ بنتا
جو ہوتا راجہ پندر بھی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہ آیا عید کا میدان
یہاں کی بھی ہے نرالی شان
انوکھے یہاں کے ریسٹورانٹ
ہیں ان کے باسی سب پکوان
یہ قلفی، کھیر، کباب، اور ران
ہیں بیماری کے سامان
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

سڑک کے بیچ ہے چوراہا
وہ دیکھو ناچ سپاہی کا
ٹریفک کا یہ اندادا
ہے ٹوپی لال اور کوٹ اجلا
کدھر جاتا ہے او رکشہ
ابے چالان کرائے گا
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہ آئی لکشمی بلڈنگ
کبھی تھی سب سے بڑی بلڈنگ
جو لالو کھیت سے بھی دیکھو
نظر آتی تھی یہی بلڈنگ
ہے جن کا اس میں اک دفتر
اب وہ رکھتے ہیں کئی بلڈنگ
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

ہوا میرا گھوڑا کم رفتار
کے آیا بولٹن بازار
ٹریفک کی ہے یہاں بھرمار
کہ پیدل چلنا بھی دشوار
ٹراموں کا یہ بڑا جنکشن
ہر اک جانب ہے چیخوں پکار
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہ آیا بومبے بازار
پھلوں کا ہوتا ہے بیوپار
سجے ہیں سیب، انگور, انار
موسمبی، مالٹے رس دار
سفید-و- سرخ تو دوکاں دار
مگر گاہک لاغر بیمار
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

کہ لو ہم پہنچ گئے ٹاور
جس کے باجو ہے کھارادر
بسوں کا ہے یہ اک سنٹر
کھڑے ہیں بہت سے کنڈکر
ٹرایفک کا یہ ون وے روٹ
یہی سے کھاتا ہے چکّر
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

چلو اب اترو بابو جی
تمہاری منزل آ پہنچی
یہی ہے کراچی کی گوڈی
جسے کہتے ہیں کیماڑی
منوڑے یہاں سے جانا ہو
لے جائے گے تمہیں کشتی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

کیماڑی سے میری گاڑی
اب چلی ہے گھر کو خالی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

احمد رشدی اور مسعود رعنا - Ahmed Rushdi and Masood Rana

احمد رشدی اور مسعود رعنا جنہوں نے پہیلی بار یہ نظم گائی

بزم کو برہم ہوئے مدت نہیں گزری بہت

•April 9, 2011 • Leave a Comment
بزم کو برہم ہوئے مدت نہیں گزری بہت
اٹھ رہا ہے گل سے شمع بزم کے اب تک دھواں

I grew up poor…

•March 30, 2011 • 2 Comments

Did you know that in some countries people lend to each other their very last piece of rice? Did you know they laugh and sing with joy in their huts of mud? And when you ask them why they share and smile when they are obviously the poorest of the poor they’ll look at you with confusion as if to ask you, “We’re poor?”

Isn’t that wonderful? That they’re not poor in their mind, and thus not?

For you see, they have nobody constantly telling them what they lack. Alas, For those who see all the luxuries of world, who grow in the land of commercials, billboards, and magazines. The land where everything around they tells them how much they lack.

I grew up poor, but only because everyone else had money.

Is it a misfortune? or should we say it ignorance because ‘Ignorance is a blessing’?
Whatever it is!!!
I can’t tell whether this is the better way or not. I can’t tell whether this is happiness born of a high plane, or one born from ignorance. But I will tell you this, those people that laugh and smile with mud covered faces while their bellies grumble with hunger – they are richer than everyone else. And richest are those who know everything and have nothing still feel happiness.

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

•March 26, 2011 • Leave a Comment
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقدیر بھی فدا ہو

آزاد فکر سے ہوں، عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سہ گویا ، مجھکو جہاں نما ہو

مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اسکے کٹھکا نہ کچھ میرا ہو

ہو دلفریب ایسا کوہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آینہ دیکھتا ہو

راتوں کو جلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید انکی میرا ٹوٹا ہوا دیہ ہو

پچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذان
میں اسکا ہمنوا ہوں وہ میری ہمنوا ہو

کانوں پے ہو نہ مرے دیر و حرم کا احسان !
روزن ہی جھونپڑے کا مجھکو سازنما ہو

پھولوں کو آے جسدم شبنم وضو کرانے
رونا میرا وضو ہو نالہ میری دعا ہو

اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو

ہر دردمند دل کو رونا میرا رلا دے
بیہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

علامہ محمّد اقبال –

تھک گیا زندگی کی راہوں میں

•March 26, 2011 • Leave a Comment

تھک گیا زندگی کی راہوں میں
جا کے رہتا ہوں بیٹھ قبروں میں

ہے یہ موت و حیات کا برزخ
ہم نہ زندوں میں اور نہ مُردوں میں

مرنے والا بھی مرثیہ خواب بھی
اڑ گئے سب کے سب ہواؤں میں

چاند سورج یہاں کے دیکھ لئے
یہ بھی ہیں ڈوبتے خداؤں میں

کششِ ثقل کھینچتی ہے کوئی
روح بولے شکستہ لہجوں میں

بیٹھ کر موت کے پروں پہ کوئی
ہوا معدوم کائناتوں میں

رفیق اظہر-

میں تھک گیا ہوں

•March 25, 2011 • Leave a Comment

میں تھک گیا ہوں،کتنا نڈھال ہو گیا ہوں
میری روح قبض کرلو،میں سونا چاہ رہا ہوں

 
%d bloggers like this: