حقیقتِ حسن

خدا سے حسن نے اک روز یہ سوال کیا
جہاں میں کیوں نہ تو نے مجھے لا زوال کیا

ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دنیا
شب دراز عدم کا فسانہ ہے دنیا

ہوئی ہے رنگِ تغیر سے نمود اس کی
وہی حسں یے حقیقت زوال ہے جس کی

کہیں قریب تھا ، یہ گفتگو قمر نے سنی
فلک پہ عام ہوئی ، اختر سحر نے سونی

سحر نے تارے سے سن کر سنائی شبنم کو
فلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو

بھر آئے پھول کے آنسو پیامِ شبنم سے
کلی کا ننھا سا دل خون ہو گیا غم سے

چمن سے روتا ہوا موسمِ بہار گیا
شباب سیر کو آیا تھا ۔ سو گوار گیا

علامہ اقبال

Advertisements

~ by UTS on April 7, 2009.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: