وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، جو اپنی مثال آپ تھا

CooL

اُسے اپنے فردا کی فکر تھی، وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اُس کی شبِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا

میری بات کیسے وہ مانتا، میری بات کیسے وہ جانتا
وہ تو خود فنا کے سفر میں تھا، اُسے روکنا محال تھا

جو اُس کے پاس آگیا وہی روشنی میں نہا گیا
عجب اُسکا ہیبتِ حُسن تھا عجب اُسکا رنگ و جمال تھا

میں پوچھ پوچھ کر تھک گیا، مجھے چھوڑ کر کہاں جاؤ گے
وہ جواب تک نہ دے سکا، وہ تو خود سراپا سوال تھا

دمِ واپسی یہ کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، جو اپنی مثال آپ تھا

برسوں بعد ملا بھی تو میرے لب پر کوئی گلا نہ تھا
میری چُپ نے اسے رُلا دیا، جسے گفتگو میں کمال تھا

میرے گلے سے لگ کر رو دیا، فقط اتنا وہ کہہ سکا
جسے جانتا تھا میں زندگی، وہ تو وہم و خیال تھا

Advertisements

~ by UTS on May 7, 2009.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: