زندگی سے ڈرتے ہو

زندگی سے ڈرتے ہو
زندگی تو تم بھی ہو
زندگی تو ہم بھی ہیں
زندگی سے ڈرتے ہو

آدمی سے ڈرتے ہو
آدمی تو تم بھی ہو
آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زباں بھی ہے
آدمی بياں بھی ہے
اس سے تم نہيں ڈرتے
حرف – و- معانی کے رشتہء آہم سے
آدمی ہے وابستہ
آدمی کے دامن سے ، زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہيں ڈرتے

انکہی سے ڈدتے ہو
جو ابھی نہيں آئ
اس گھڑی سے ڈرتے ہو

پہلے بھی تو گزرے ہيں ، دور نارسائ کے
بير يا خدائ کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو
ہيچ آرزو مندی
یا شب زباں بندی
ہے راہ خدا وندی

تم مگر يہ کیا جانو
لب اگر نہيں ہلتے
ہاتھ جاگ اٹھتے ہيں
رہ کا ںشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہيں
صبح کی ازاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تم بھی ہو
روشنی تو ہم بھی ہيں
روشنی سے ڈرتے ہو

شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ ہے
پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر
خاک ہو گیا آخر
آزدہام انساں سے فرد کی نوا آئ
ذات کی صدا آئ
راہ شوق ميں جيسے
راہ رو کا خوں لپکے
اک نيا جنوں لپکے

آدمی چھلک اٹھے
آدمی ہنسے دیکھو
شہر پھر بسے دیکھو

تم ابھی سے ڈرتے ہو
ہاں
ابھی تو تم بھی ہو
ابھی تو ہم بھی ہیں
تم ابھی سے ڈرتے ہو

– ن م راشد –

Fear

Advertisements

~ by UTS on August 24, 2009.

2 Responses to “زندگی سے ڈرتے ہو”

  1. zindagi kee haqeeaton ko kabhi itnay kareeb say na dekho
    shayed is kee talkhiya guman say bahir hoon
    ya phir woh dal dal hai jiss main utar kar bhee zindo ho

  2. One of my favorites

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: