Zindagi

روشنی مِزاجوں کا کیا عجب مقدر ھے
زندگِی کے رستوں میں بِچھنے والے کانٹوں کو

راہ سے ہٹانے میں
ایک ایک تِنکے سے آشیاں بنانے میں

خوشبُوئیں پکڑنے میں، گلستاں سجانے میں
عمر کاٹ دیتے ہیں

عمر کاٹ دیتے ہیں
اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں

کیسی کیسی خواہش کا قتل کرتے جاتے ہیں
درگذر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیں

صبر کے سمندر میں کشتیاں چلآتے ہیں
یہ نہیں انکو اِس روز و شب کی کاوش کا

کچھ صِلہ نہیں ملتا!!
مرنے والی آسوں کا خوں بہا نہیں ملتا

زندگی کے دامن میں جسِقدر بھی خوشیاں ہیں
سب ہی ہاتھ آتی ہیں

سب ہی مِل بھی جاتی ہیں
وقت پر نہیں مِلتیں! وقت پر نہیں آتیں

یعنی اُنکو مِحنت کا اجر مِل تو جاتا ہے
لیکن اِس طرح جیسے

قرض کی رقم کوئی قِسط قِسط ھو جائے!
اصل جو عبارت ھو پسِ ناوشت ھو جائے

فصلِ گلُ کے آخِر میں پھول اُن کے کھِلتے ہیں
اُن کے صِحن میں سُورج دیر سے نِکلتے ہیں

Advertisements

~ by UTS on September 8, 2009.

One Response to “Zindagi”

  1. Salam,
    Excelent choice, keep it up,thanks for sharing

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: