یہ بچہ کیسا بچہ ہے

یہ بچہ کیسا بچہ ہے
جو ریت پے تنہا بیٹھا ہے
نہ اس کے پیٹ پے روٹی ہے
نہ اس کے تن پے کپڑا ہے
نہ اس کے سر پے ٹوپی ہے
نہ اس کے پیر میں جوتا ہے
نہ اس کے پاس کھلونے ہیں
نہ اس کے پاس کوئی بھالو ہے
نہ اس کے پاس کوئی گھوڑا ہے
نہ اس کا جی بہلانے کو
کوئی لوری ہے، کوئی جھولا ہے
نہ اس کی جیب میں ڈھیلا ہے
نہ اس کے ہاتھ میں پیسہ ہے
نہ اس کے امی ابو ہیں
نہ اسکی آپا خالہ ہے
یہ سارے جگ میں تنہا ہے
یہ بچہ کس کا بچہ ہے
ابن انشاء
Advertisements

~ by UTS on September 19, 2009.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: