دل ہجر کے درد سے بوجھ ہے، اب آن ملو تو بہتر ہو

A poet, columnist, humorist, and travelogue writer loved for past five decades by Urdu language readers around the globe named Ibn-e-Insha. What’s behind in his life that made him to write articles with ‘Full of Humor’ and poetry ‘Full of sorrows’. Two totally opposite things combined in one writer. It’s Amazing. Well he is admirable writer. I just love the way he gives words in form of poetry – very smooth, fluent and can be readable in one breath even a poetry of 56 lines have the same sequence of words and syllables. I am posting some of them here.

دل ہجر کے درد سے بوجھ ہے، اب آن ملو تو بہتر ہو
اس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو

اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں، ایک پیاس کے دونوں پیاسے ہیں
ہم کھیتی ہیں، تم بادل ہو، ہم ندیا ہیں تم ساگر ہو !

یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں، ایک درد کا پھوڑا الھڑ سا
نا گپت رہی نہ پھوٹ بہے، کوئی مرہم ہو کوئی نشتر ہو

ہم سانجہ سمے کی چھایاں ہیں، تم چڑھتی رات کے چندر ماں
ہم جاتے ہیں، تم آتے ہو، پھر میل کی صورت کیونکر ہو !

اب حُسن کا رتبہ عالی ہے، اب حُسن سے صحرا خالی ہے
چل بستی میں بنجارہ بن، چل نگری میں سوداگر ہو

جس چیز سے تجھ کو نسبت ہے، جس چیز کی تجھ کو چاہت ہے
وہ سونا ہے وہ ہیرا ہے، وہ ماٹی ہو یا کنکر ہو

اب انشاء جی کو بلانا کیا،اب پیار کے دیپ جلانا کیا
جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں، جب دن اور رات برابر ہو

وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں، وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں
اب سکھ کے سپنےکیا دیکھیں، جب دُکھ کا سورج سر پر ہو

– ابنِ انشاء

Advertisements

~ by UTS on October 31, 2009.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: