روشنی اور تاریکی کی جنگ

الّو دن سے زیادہ رات کوپسند کرتا ہے۔ جیسے ہی رات ہوتی ہے اپنے پَر پھیلا کر ایک طرف سے دوسری طرف پرواز کرتا اور خوش ہوتاہے۔ ’’اگر ہمیشہ رات اور اندھیرا رہے تو کتنا اچھا ہو۔ آخر رات کو ایسی کیا پریشانی ہوتی ہے کہ وہ چلی جاتی ہے اور اپنی جگہ سورج کو دے جاتی ہے۔ جب میں چاہتا ہوں کہ رات اور اندھیرے کا مزہ لوں، سورج کا چہرہ نمودار ہو جاتا ہے اور وہ اندھیرے کو بھگا دیتا ہے۔

ایک روز الُّو کو خیال آیا کہ وہ آسمان میں بہت بلندی تک پرواز کرے اور سورج کے کاندھے پر بیٹھ کر اپنی مڑی ہوئی تیز چونچ سے سورج کے سر پر حملہ کرکے اسے آسمان سے بھگا دے۔

الّو نے ایسا ہی کرنے کی ٹھان لی۔ ایک روز صبح سویرے بہت زیادہ کھانا کھایا اور اڑنے کے لیے آمادہ ہو گیا۔ آسمان میں بہت بلندی کی طرف اڑتا گیا کہ شاید سورج تک پہنچ جائے، لیکن جتنی اونچی پرواز کرتا گیا، اتنا ہی تھکنے لگا۔ گرم ہوا اور سورج کی روشنی سے بھی اسے اذیت ہو رہی تھی۔ آخرکار تھوڑی دیر اڑنے کے بعد تھکا ماندہ زمین پر لوٹ آیا اور ایک درخت کے سوراخ میں بیٹھ کر خود سے بولا: ’’سورج سمجھ گیا ہے کہ میں اسے بھگانے والا ہوں، اسی لیے اس نے اپنی تیز روشنی اور گرمی کو میرے ساتھ جنگ کرنے بھیجا تاکہ میں اس تک نہ پہنچ سکوں۔ لیکن میں بھی اتنی جلدی میدان سے نہیں بھاگوںگا۔ کل کھانا تھوڑا کم کھاؤںگا اور پانی زیادہ پیؤںگا تاکہ مجھے دیرتک تھکاوٹ اور پیاس کا احساس نہ ہو اور میں سورج تک پہنچ جاؤں۔ اگر میں سورج تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کا اتنا برا حشر کروںگا کہ ہمیشہ کے لیے اپنی روشنی پھیلانا بھول جائے گا۔

دوسرے دن اس نے کھانا تو کم کھایا اور پانی زیادہ مقدار میں پی کر اڑنے کے لیے آمادہ ہو گیا۔ اپنے پر پھیلاکر آسمان کی بلندیوں پر پرواز کرنے لگا لیکن اس روز بھی پچھلے دن کی طرح سورج تک نہ پہنچ سکا۔ وہ روزآنہ کوشش کرتا اور ہر روز پہلے سے زیادہ تھکا ماندہ اور پیاسا واپس آکر اپنے گھونسلے میں پناہ لیتا۔ یہاں تک کہ رات میں بھی اتنا تھکا ہوا ہوتا کہ اس میں گھومنے اور اڑنے کی بھی سکت نہیںہوتی۔اب وہ سمجھ گیا کہ یہ کام صرف اس کے اکیلے کرنے کا نہیں ہے۔

Çیک دن بادل کی ایک ٹکڑی نے جب سورج کو اپنے پیچھے چھپا لیا تو ایک نیا خیال الّو کے ذہن میں آیا۔ اس نے سوچا: ’’کاش! میں کم سے کم بادل تک تو پہنچ جاؤں۔ اگر بادل تک میری رسائی ہو جائے تو میں اس سے التجا کروںگا کہ وہ ہمیشہ آسمان میں رہے اور سورج کا چہرہ چھپالے۔ ابرآلود دن چمکدار اور روشن دن سے زیادہ بہتر ہے اور اگر بادل بھی سیاہ ہو تو کتنا اچھا ہوگا۔

اس دن الّو نے بادل کی طرف پرواز کی اور آخرکار بادل تک پہنچ ہی گیا۔ بادل سرد، مٹیالا اور بالکل ساکت تھا۔ ہانپتا کانپتا اور تھکا ماندہ الّو جب بادل کے پاس گیا تو جاتے ہی بغیر کسی تمہید کے رونا شروع کر دیا۔ وہ اتنے دردناک طریقے سے رویا کہ بادل کو اس پر بہت رحم آیا۔ اس کا بھی دل بھر آیا اور اس نے بھی رونا شروع کر دیا۔ پھر بادل نے الّو سے پوچھا

’’آخر تمھیں ایسی کون سی پریشانی ہے جو تم اس طرح رو رہے ہو؟

’’میں کہاں سے اپنی درد کی داستان شروع کروں۔ اس دنیا میں میں نے اپنے دل کو صرف رات کے اندھیرے سے خوش کیا ہے۔ اس اندھیرے کو بھی سورج کی روشنی مجھ سے چھین لیتی ہے۔ جیسے ہی سوچتا ہوں کہ رات کے اندھیرے میں اپنے پَر پھیلاؤں اور تازہ سانس لوں، سورج اپنی سنہری کرنیں دنیا پر پھیلا دیتا ہے اور ساری چیزوں کو روشن کر دیتا ہے۔‘‘

’’لیکن اگر سورج نہ نکلے تو۔ ۔ ۔ ‘‘
الّو بیچ میں ہی بادل کی بات کاٹ کر بولا

’’مردانگی سے کام لو اور ہمیشہ یہیں رہو۔ اگر تم ایسا کروگے تو مجھے سورج کی روشنی سے نجات مل جائے گی۔‘‘

بادل تھوڑا ٹال مٹول کرنے لگا۔ بولا: ’’کاش میں تمھاری کچھ مدد کر سکتا لیکن میں ہوا کے حکم کے مطابق کام کرتا ہوں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمھاری کچھ مدد کروں تو تم ہوا کے پاس جاؤ اور پہلے اس سے بات کرو۔‘‘

الّو نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادل سے کہا: ’’ہوا تو میری دوست ہے۔ راتوں کو جب اڑتا ہوں تو میرے پروں کے نیچے آجاتی ہے تاکہ میں بہتر پرواز کر سکوں۔ اگر ہوا سے کام بن سکتا ہے تو میں آج رات ہی ہوا سے بات کروںگا۔‘‘

اس روز اُلُّو بہت زیادہ خوش تھا کیونکہ اس نے سورج سے جنگ کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیا تھا۔ رات ہوئی تو درخت کی شاخ پر بیٹھ کر ہوا کے چلنے کا انتظار کرنے لگا اوراپنا لائحہ عمل تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ سے باتیں بھی کرنے لگا: ’’ضروری نہیں ایسا ہی ہو۔ ممکن ہے ہوا کی سورج کے ساتھ دوستی ہو اور وہ میری مدد نہ کرے۔ مجھے چاہیے کہ اس طرح بات چیت کروں کہ ہوا سورج کی دشمن ہو جائے۔ اگر میں کامیاب ہو گیا تو وہ ضرور بادل کو سورج کے سامنے بھیج دے گی اور مجھے سورج کی روشنی دیکھنے سے راحت مل جائے گی۔‘‘

آخر کار ہوا چلنے لگی۔ الّو بھی ہوا کے ساتھ اڑنے لگا۔ اس کا حال چال پوچھا اور بولا: ’’میں نے سنا ہے کہ سورج تم سے بہت زیادہ ناراض ہے، کیونکہ تم نے بادل سے کہا ہے کہ وہ سورج کے سامنے جاکر اس کی روشنی چھین لے۔‘‘

ہوا نے کہا: ’’بادل میرے حکم کے مطابق کام کرتے ہیں۔ میں ان کو جگہ جگہ بھیجتی ہوں تاکہ پانی برسے۔ اس کام سے سورج کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔‘‘

الّو بولا: ’’میں نہیں جانتا۔ تمھیں جو کرنا ہے کرو۔ لیکن میں نے یہ بھی سنا ہے کہ سورج تم سے جنگ کرنا چاہتا ہے۔‘‘

ہوا بولی: ’’مجھ سے جنگ کرنا چاہتا ہے؟ میں بادلوں کو حکم دوںگی کہ جہاں ہیں، وہیں رہیں، اور سورج کے سامنے آکر اس کی روشنی لیں تاکہ مجھ سے لڑنے کا خیال اس کے دماغ سے نکل جائے۔‘‘الّو نے جب دیکھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے تو بولا

’’اگر تم اس کام کو کر سکتی ہو تو بہت اچھا ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ تمھارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے۔‘‘

ہوا نے کہا : ’’اب تم دیکھوگے کہ میرے پاس طاقت ہے یا نہیں!‘‘
اس کے بعد ہوا بہت تیز و تند ہوگئی۔

الّواس رات بہت آرام سے سویا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ رات کے اندھیرے کی مانند اس کے بڑے بڑے کالے پر ہیں۔ اس کے ان پروں نے سورج کو چھپا لیا ہے اور اسے چمکنے نہیں دے رہے ہیں۔
صبح جب بیدار ہوا تو اس وقت بھی موسم ابر آلود تھا اور سورج نظر نہیں آرہا تھا۔

کئی دن تک بہت تیزہوا چلتی رہی اور بادل کی ٹکڑیوں کو جمع کرکے سورج کو چھپا دیتی ۔ پھول مرجھا گئے۔ پرندوں نے چہچہانا اور پیڑ پودوں نے لہلہانا بند کر دیا تھا۔

سورج نے جب اپنے ان دوستوں کو غمگین دیکھا تو بادلوں کے پیچھے سے اپنا سر نکالا۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا کو روشنی اور دھوپ کی ضرورت ہے۔

ایک بڑی جنگ شروع ہو گئی۔ روشنی اور تاریکی کی جنگ۔ سورج کی جنگ ہوا اور بادل کے ساتھ۔ سورج کی فریادیں بلند ہوئیں اور آسمان میں پھیلنے لگیں۔ اس نے اپنی چمکیلی تلوار سے بادلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ بادل سورج کا مقابلہ نہیں کر سکے، ہار گئے اور رونے لگے۔ اس روز الّو درخت کی شاخ پر بیٹھا روشنی اور تاریکی کی جنگ دیکھ رہا تھا۔

اچانک طوفانی بارش شروع ہو گئی اس سے پہلے کہ الّو بھیگ جاتا، اڑ کر اپنے گھونسلے میں چلا گیا۔

کچھ دیر بعد جب اس نے اپنا سر گھونسلے سے باہر نکالا تو سورج کی تیز روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ بادل اور سورج کی جنگ ختم ہو چکی تھی اور آسمان میں بادل کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ہوا بھی نہیں چل رہی تھی۔

الّو نے جب دیکھا کہ اس کھیل میں اسے شکست ہوئی ہے تو آزردہ خاطر ہو کر واپس اپنے گھونسلے میں لوٹ آیا۔

I read it when I was a child, I am just collecting my childhood or trying to save it somewhere. :S

Advertisements

~ by UTS on March 25, 2010.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: