احسان بہت بھاری ہے

ایک مر تبہ علامہ اقبال اپنے استاد محترم کے ساتھ تھے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرے منہ سے کبھی استاد محترم کے سامنے شعر نہ نکلا ۔
میں استاد محترم کے بیٹے احسان کو اٹھائے ان کے پیچھے پیچھےچل رہا تھا۔ احسان کافی وزنی تھا۔ میں نے سستانے کیلئے احسان کو ایک دکان کے پھٹے پر کھڑا کیا استاد محترم آگے نکل گئے کچھ دیر کے بعد مجھے نہ پا کر واپس مڑے مجھے کھڑا دیکھ کر کہنے لگے: ۔

” احسان کو اٹھانے میں دشواری ہے ۔”

میں نے جواب میں بے ساختہ کہ دیا:

“تیرا احسان بہت بھاری ہے۔”

Advertisements

~ by UTS on September 23, 2010.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: