کیا ہوگیا ہوں اور کیا ہونا تھا مجھ کو

یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
مگر کیا ہوگیا ہوں اور کیا ہونا تھا مجھ کو

ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سے
ابھی اک لفظ تھا میں اور ادا ہونا تھا مجھ کو

پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتی
کوئی اپنی ہی گم گشتہ صدا ہونا تھا مجھ کو

پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اٹھنا
کسی کی رائے میں بادصبا ہونا تھا مجھ کو

وہاں سے بھی گزر آیا ہوں خاموشی سے اب کے
جہاں اک شور کی صورت بپا ہونا تھا مجھ کو

در و دیوار سے اتنی محبت کس لیے تھی
اگر اس قید خانے سے رہا ہونا تھا مجھ کو

میں اپنی راکھ سے بے شک دوبارہ سراٹھاتا
مگر اک بار تو جل کر فنا ہونا تھا مجھ کو

میں اندر سے کہیں تبدیل ہونا چاہتا تھا
پرانی کینچلی میں ہی نیا ہونا تھا مجھ کو

ظفر،میں ہوگیا کچھ اور،ورنہ،اصل میں تو
برا ہونا تھا مجھ کو،یا بھلا ہونا تھا مجھ کو

Advertisements

~ by UTS on December 8, 2010.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: