New Year 2011

میں سال کا آخری سورج ہوں
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
کوئی کہتا ہے میں چل نہ سکا
کوئی کہتا ہے کیا خُوب چلا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
…اس رخصتِ عالم میں مجھ کو
اک لمحہ رخصت مل نہ سکی
جس شب کو ڈھونڈنے نکلا تھا
اس شب کی چاہت مل نہ سکی
یہ سال کہاں، اک سال کا تھا
یہ سال تو اک جنجال کا تھا
یہ زیست جو اک اک پَل کی ہے
یہ اک اک پَل سے بنتی ہے
سب اک اک پَل میں جیتے ہیں
اور اک اک پَل میں مرتے ہیں
یہ پَل ہے میرے مرنے کا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا

اے شام مجھے تُو رخصت کر
تُو اپنی حد میں رہ لیکن
دروازے تک تو چھوڑ مجھے
وہ صبح جو کل کو آئے گی
اک نئی حقیقت لائے گی
تُو اُس کے لئے، وہ تیرے لئے
اے شا،م! تُو اتنا جانتی ہے
اک صبحِ امید ، آثار میں ہے
اک در تیری دیوار میں ہے
اک صبحِ قیامت آنے تک

بس میرے لیے بس میرے لیے
یہ وقت ہی وقتِ قیامت ہے
اب آگے لمبی رخصت ہے
اے شام جو شمعیں جلاؤ تم
اک وعدہ کرو ان شمعوں سے
جو سورج کل کو آئے یہاں
وہ آپ نہ پَل پَل جیتا ہو
وہ آپ نہ پَل پَل مرتا ہو
وہ پُورے سال کا سورج ہو
اے شام مجھے تو رخصت کر

Advertisements

~ by UTS on January 1, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: