کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ

دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کی ساتھ لے
نیکی کا بدلہ نیک ہے بد سے بدی کی بات لے
میوہ کھلا میوہ ملے پھل پھول دے پھل پات لے
آرام دے آرام لے دُکھ درد دے آفات لے

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

کانٹا کسی کے مت لگا گو مثل گل پھولا ہے تو
وہ تیرے حق میں تیر ہے کس بات پر بھولا ہے تو
مت آگ میں ڈال اور کو پھر گھانس کا پولا ہے تو
سن رکھ یہ نکتہ بے خبر کس بات پر بھولا ہے تو

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

جو اور کو پھل دیوے گا وہ بھی سدا پھل پاوے گا
گیہوں سے گیہوں، جَو سے جَو، چاول سے چاول پاوے گا
جو آج دیوے گا یہاں ویسا وہ کل واں پاوے گا
کل دیوے گا کل پاوے گا کلپاوے گا کل پاوے گا

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

جو چاہے لے چل اس گھڑی سب جنس یاں تیار ہے
آرام میں آرام ہے، آزار میں آزار ہے
دنیا نہ جان اس کو میاں دریا کی یہ منجدھار ہے
اوروں کا بیڑا پار کر تیرا بھی بیڑا پار ہے

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

تو اور کی تعریف کر، تجھ کو ثنا خوانی ملے
کر مشکل آساں اور کی تجھ کو بھی آسانی ملے
تو اور کو مہمان کر تجھ کو بھی مہمانی ملے
روٹی کھلا روٹی ملے، پانی پلا پانی ملے

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

کرچُک جو کچھ کرنا ہو اب یہ دم تو کوئی آن ہے
نقصان میں نقصان ہے احسان میں احسان ہے
تہمت میں یاں تہمت لگے طوفان میں طوفان ہے
رحمان کو رحمان ہے شیطان کو شیطان ہے

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

یاں زہر دے تو زہر لے شکّر میں شکّر دیکھ لے
نیکوں کو نیکی کا مزا موذی کو ٹکر دیکھ لے
موتی دے موتی ملے پتھر میں پتھر دیکھ لے
گر تجھ کو یہ باور نہیں تو تو بھی کر کر دیکھ لے

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

غفلت کی یہ جاگہ نہیں یاں صاحب ادراک رہ
دل شاد رکھ دل شاد رہ، غمناک رکھ غمناک رہ
ہر حال میں تو بھی نظیر اب ہر قدم کی خاک رہ
یہ وہ مکاں ہے او میاں یاں پاک رہ بیباک رہ

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

نظیر اکبر آبادی

Advertisements

~ by UTS on January 8, 2011.

One Response to “کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ”

  1. this is the call of universe by the mouth of Nazir Akbar abadi

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: