نقش فریادی ہے کِس کی شوخیِ تحریر کا

نقش فریادی ہے کِس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

مشکل الفاظ : نقش: لکھنا، نقش و نگار کرنا، بیل بوٹے بنانا، نشان ، تعویذ، تصویر یہاں آخری معنی میں استعمال ہوا ہے
کاغذی پیرہن: کاغذی لباس، جو زمانۂ قدیم کے ایران میں داد خواہ پہن لیتے تھے۔ مرزا غالب نے لکھا ہے ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، جیسے مشعل دن کو جلانا یا خون آلودہ کپڑا بانس پر لٹکا کر لے جانا۔ شعراے ایران کے کلام سے اس رسم کی تصدیق ہوتی ہے۔شرح خود مرزا اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ “شاعر خیال کرتا ہے ، نقش کس کی شوخیِ تحریر کا فریادی ہے کہ جو صورتِ تصویر ہے اس کا پیرہن کاغزی ہے۔ یعنی ہستی اگرچہ مثلِ تصاویر اعتبارِ محض ہو، موجبِ رنج و ملال و آزار ہے۔”

مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی وجودِ حقیقی یعنی خدا سے علیحدگی اور جدائی کا باعث ہوئی۔ جدائی سے پیشتر معرفت کی جو دولت و لذّت حاصل تھی، وہ باقی نہ رہی۔ روحیں پیدا کی گئی تھیں اور ان سے پوچھا گیا تھا: الست بربّکم، کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ؟ تو سب کی فطرت سے ایک صدا بلند ہوئی یعنی “بلیٰ” بیشک تو ہی ہمارا پروردگار ہے۔ دنیا کے بکھیڑوں سے سابقہ پڑا تو وجودِ حقیقی سے قرب کی یہ کیفیت بھی جاتی رہی اور بندگی کے اقرار کا حق بھی ادا نہ ہو سکا۔ اسی حالتِ درد و غم نے ہستی کو فریاد پر مجبور کر دیا۔ درد و غم کے دو سبب ہوئے، اوّل وجودِ حقیقی سے جدائی، دوم اس کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی۔ شاعر کہتا ہے کہ ہر نقش کیس کی شوخی تحریر کا فریادی ہے، جس کے باعث ہر تصویر نے کاغذی لباس پہن لیا ہے۔ ہستی کو تصویر اس لئے کہا کہ اس کا وجود حقیقی نہیں، غیر حقیقی ہے۔ مگر عارضی ہونے کے باوجود وہ اتنے رنج و ملال کا باعث ہوئی کہ ہر ہستی سراپا فریاد بن گئی۔

نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
شوخئِ نیرنگ، صیدِ وحشتِ طاؤس ہے
دام، سبزے میں ہے پروازِ چمن تسخیر کا
لذّتِ ایجادِ ناز، افسونِ عرضِ ذوقِ قتل
نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا
کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع
پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ
جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

(مرزا غالب)

Advertisements

~ by UTS on January 10, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: