تھک گیا میں

نہ اب مجھکو صدا دو تھک گیا میں
تمہیں جاؤ ارادوں تھک گیا میں

نہیں اُٹھتی میری تلوار مجھ سے
اُٹھو اے شاہزادو تھک گیا میں

ذرا سا ساتھ دو غم کے سفر میں
ذرا سا مسکرا دو تھک گیا میں

تمہارے ساتھ ہوں پھر بھی اکیلا
رفیقوں راستہ دو تھک گیا میں

کہاں تک ایک ہی تمثیل دیکھوں
بس اب پردا گرا دو تھک گیا میں

عدالت کیا قیامت تک چلے گی؟
مجھے جلدی سزا دو تھک گیا میں

کہاں آتی ہے مجھکو نیند پھر بھی
میرا بستر بچھا دو تھک گیا میں

Advertisements

~ by UTS on January 11, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: