جس کا جی چاہے ہمیں توڑ کے ٹکڑے کر دے

رات دن ہجر کی وحشت بھی نہیں رکھنی ہے
کسی سے اب اتنی محبت بھی نہیں رکھنی ہے

جس کا جی چاہے ہمیں توڑ کے ٹکڑے کر دے
اس قدر نرم طبعیت بھی نہیں رکھنی ہے

ایک دو سال کے رشتوں سے ہمیں کیا حاصل؟
ایک دو پل کی رفاقت بھی نہیں رکھنی ہے

جن سے بچھڑیں تو سمبھلنے میں زمانے لگ جائیں
ایسے لوگوں سے مروت بھی نہیں رکھنی ہے

کیا عجب حال ہے چاہت کے طلبگاروں کا
شوق بکنے کا ہے قیمت بھی نہیں رکھنی ہے

Advertisements

~ by UTS on January 11, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: