میں تھک گیا ہوں

بہت رات ہوئی
تھک گیا ہوں ، مجھے سونے دو
بہت رات ہوئی

چاند سے کہ دو اتر جائے
بہت بات ہوئی

آشیاں کے لئے چار تنکے بھی تھے
آسرے رات کے اور دن کے بھی تھے
ڈھونڈتے تھے جسے وہ ذرا سی زمین
آسمان کے تلے کھو گئی ہے کہیں
دھوپ سے کہہ دو اتر جائے ، بہت بات ہوئی

زندگی کے سبھی راستے سرد ہیں
اجنبی رات کے اجنبی درد ہیں
یاد سے کہہ دو گزر جائے ، بہت بات ہوئی

یاد آتا نہیں اب کوئی نام سے
سب گھروں کے دیے بجھ گئے شام سے
وقت سے کہہ دو گزر جائے ، بہت بات ہوئی

میں تھک گیا ہوں ، مجھے سونے دو ، بہت بات ہوئی
تھک گیا ہوں
میں تھک گیا ہوں …


Advertisements

~ by UTS on March 16, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: