میں تھک گیا ہوں

گزرتے لمحو، میں تھک گیا ہوں ، بکھر گیا ہوں
میں ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہوں
یہ ساتھیوں کی مفارقت بھی عجیب شے ہے
کہ جتنا عرصہ یہ ساتھ چلتے ہیں
چھوٹی چھوٹی فضول باتوں پہ روٹھ جاتے ہیں اور لڑتے ہیں
دوستوں کے جواں ارادے شکست کرتے ہیں
راستے کی سعوبتوں سے انہیں ڈراتے ہیں آپ ڈراتے ہیں
منزلوں کو پکارتے ہیں
مگر انہی کے وجود ہیں جو مسافتوں کو نکھارتے ہیں
گزرتے لمحو میں ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہوں
میں اپنی تنہائی کے تحُّیر سے ڈر گیا ہوں
میں وہ مسافر ہوں جس کے پاؤ ں میں منزلیں ہیں نہ رہگزر ہے
حرف جو اب بھی اتر رھے ھیں جو اب بھی الفاظ بولتے ھی

Advertisements

~ by UTS on March 25, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: