خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا
نیچے سے اُتر کے تھک گیا ہوں

اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو
اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں

میں یعنی ازل کا آرمیدہ
لمحوں میں بِکھر کے تھک گیا ہوں

اب جان کا میری جسم شَل ہے
میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں

Advertisements

~ by UTS on March 25, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: