خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

•March 25, 2011 • Leave a Comment

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا
نیچے سے اُتر کے تھک گیا ہوں

اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو
اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں

میں یعنی ازل کا آرمیدہ
لمحوں میں بِکھر کے تھک گیا ہوں

اب جان کا میری جسم شَل ہے
میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں

میں تھک گیا ہوں

•March 25, 2011 • Leave a Comment

عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں
میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بُجھائے مُجھے

بہت دنوں سے میں ان پتھّروں میں پتھّر ہوں
کوئی تو آئے ذرا دیر کو رُلائے مجھے

میں تھک گیا ہوں

•March 25, 2011 • Leave a Comment

گزرتے لمحو، میں تھک گیا ہوں ، بکھر گیا ہوں
میں ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہوں
یہ ساتھیوں کی مفارقت بھی عجیب شے ہے
کہ جتنا عرصہ یہ ساتھ چلتے ہیں
چھوٹی چھوٹی فضول باتوں پہ روٹھ جاتے ہیں اور لڑتے ہیں
دوستوں کے جواں ارادے شکست کرتے ہیں
راستے کی سعوبتوں سے انہیں ڈراتے ہیں آپ ڈراتے ہیں
منزلوں کو پکارتے ہیں
مگر انہی کے وجود ہیں جو مسافتوں کو نکھارتے ہیں
گزرتے لمحو میں ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہوں
میں اپنی تنہائی کے تحُّیر سے ڈر گیا ہوں
میں وہ مسافر ہوں جس کے پاؤ ں میں منزلیں ہیں نہ رہگزر ہے
حرف جو اب بھی اتر رھے ھیں جو اب بھی الفاظ بولتے ھی

زندگی میں تھک گیا ہوں

•March 25, 2011 • Leave a Comment
زندگی میں تھک گیا ہوں اب تو سونے دے مجھے
خاک میری اصل ہے, اب خاک ہونے دو مجھے

بہت تھک گیا ہوں

•March 20, 2011 • Leave a Comment

دن کیا ، رات کیا ، سو گیا ہوں میں
بہت تھک گیا ہوں میں. رک گیا ہوں میں

آئنے کے ٹکڑوں کی مانند ، بکھر گیا ہوں میں
کیا پوچھتے ہو حال مرے دوستوں سے، زندہ کہاں ہوں اب مر گیا ہوں میں.


میں تھک گیا ہوں

•March 16, 2011 • Leave a Comment

بہت رات ہوئی
تھک گیا ہوں ، مجھے سونے دو
بہت رات ہوئی

چاند سے کہ دو اتر جائے
بہت بات ہوئی

آشیاں کے لئے چار تنکے بھی تھے
آسرے رات کے اور دن کے بھی تھے
ڈھونڈتے تھے جسے وہ ذرا سی زمین
آسمان کے تلے کھو گئی ہے کہیں
دھوپ سے کہہ دو اتر جائے ، بہت بات ہوئی

زندگی کے سبھی راستے سرد ہیں
اجنبی رات کے اجنبی درد ہیں
یاد سے کہہ دو گزر جائے ، بہت بات ہوئی

یاد آتا نہیں اب کوئی نام سے
سب گھروں کے دیے بجھ گئے شام سے
وقت سے کہہ دو گزر جائے ، بہت بات ہوئی

میں تھک گیا ہوں ، مجھے سونے دو ، بہت بات ہوئی
تھک گیا ہوں
میں تھک گیا ہوں …


Life is too short and …

•March 15, 2011 • Leave a Comment

Life is too short and …
what about the death !!!!
… I guess death is too long.

 
%d bloggers like this: