بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی

ایک بہت ہی خوبصورت نظم ، معین اختر کی آواز میں

بندر روڈ سے کیماڑی
میری چلی رے گھوڑا گاڑی
بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر

بسوں کی آج ہوئی ہڑتال
سواری کی پھر کیا ہے کال
خدا دیتا ہے روٹی دال
زرا چل گھوڑے سر پٹ چال
ہوئی میری گاڑی اوورلوڈ
جیو میری کالی بندر روڈ
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہ آیا ریڈیو پاکستان
ہے گویا خبروں کی دوکان
تو اس کے گنبد کو پہچان
کہیں مسجد کا ہو نہ گمان
کہ ہوتا ہے درس قرآن
کہیں گمشدگی کا اعلان
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہاں ہوتے ہیں بندوں خاں
یہاں درباری اور کلیان
یہیں پہ کوئی تمنچہ جاں
سنائے گیت غزل کی تال
مگر ہم بوڑھوں کے یہ کان
کریں سر کی کیا پہچان
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

گویا، شاعر، موسیقار
ہے سب کا نام یہاں فنکار
ملازم سب ناپائیدار
مگر برسوں کے وظیفہ خوار
یہ ہے فن کا جونا بازار
کہ سب کا ہوتا ہے بیوپار
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

ہے میرا سی ڈی اختر بھی
قلی بھی مست قلندر بھی
یہاں ہے میوزک ایڈیٹر بھی
شکیل احمد بھی انور بھی
یہیں کا آرٹسٹ بنتا
جو ہوتا راجہ پندر بھی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہ آیا عید کا میدان
یہاں کی بھی ہے نرالی شان
انوکھے یہاں کے ریسٹورانٹ
ہیں ان کے باسی سب پکوان
یہ قلفی، کھیر، کباب، اور ران
ہیں بیماری کے سامان
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

سڑک کے بیچ ہے چوراہا
وہ دیکھو ناچ سپاہی کا
ٹریفک کا یہ اندادا
ہے ٹوپی لال اور کوٹ اجلا
کدھر جاتا ہے او رکشہ
ابے چالان کرائے گا
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہ آئی لکشمی بلڈنگ
کبھی تھی سب سے بڑی بلڈنگ
جو لالو کھیت سے بھی دیکھو
نظر آتی تھی یہی بلڈنگ
ہے جن کا اس میں اک دفتر
اب وہ رکھتے ہیں کئی بلڈنگ
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

ہوا میرا گھوڑا کم رفتار
کے آیا بولٹن بازار
ٹریفک کی ہے یہاں بھرمار
کہ پیدل چلنا بھی دشوار
ٹراموں کا یہ بڑا جنکشن
ہر اک جانب ہے چیخوں پکار
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

یہ آیا بومبے بازار
پھلوں کا ہوتا ہے بیوپار
سجے ہیں سیب، انگور, انار
موسمبی، مالٹے رس دار
سفید-و- سرخ تو دوکاں دار
مگر گاہک لاغر بیمار
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

کہ لو ہم پہنچ گئے ٹاور
جس کے باجو ہے کھارادر
بسوں کا ہے یہ اک سنٹر
کھڑے ہیں بہت سے کنڈکر
ٹرایفک کا یہ ون وے روٹ
یہی سے کھاتا ہے چکّر
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

چلو اب اترو بابو جی
تمہاری منزل آ پہنچی
یہی ہے کراچی کی گوڈی
جسے کہتے ہیں کیماڑی
منوڑے یہاں سے جانا ہو
لے جائے گے تمہیں کشتی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

کیماڑی سے میری گاڑی
اب چلی ہے گھر کو خالی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

احمد رشدی اور مسعود رعنا - Ahmed Rushdi and Masood Rana

احمد رشدی اور مسعود رعنا جنہوں نے پہیلی بار یہ نظم گائی

Advertisements

~ by UTS on April 23, 2011.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: